Notes, Tests & AI Tutor for Class 5–12 | CBSE · JEE · NEET | 24x7 Access
Home Schools
Log in Get Started
Subjective Questions

1. دعا

1. دعا · Class 6 Urdu

Practise 27 short and long answer questions on 1. دعا from 1. دعا. Try writing your own answer first, then tap the question to compare it with the model answer and read the explanation behind it.

1 نظم "دعا" کے شاعر کا نام لکھیے۔ 1 mark
Model answer

نظم "دعا" کے شاعر محمد شفیع الدین نیّر ہیں۔

Explanation

شاعر کا نام نظم کے آخر میں درج ہے۔ ٹیگور کا نام لکھنا غلط ہوگا کیوں کہ یہ نظم صرف ان کی کتاب گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔

2 نظم "دعا" کس کتاب کے ایک گیت سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے؟ 1 mark
Model answer

یہ نظم ٹیگور کی مشہور کتاب گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔

Explanation

یہ بات "غور کرنے کی بات" میں دی گئی ہے۔ پورا نمبر کتاب اور مصنف دونوں کا نام لکھنے پر ملے گا۔

3 نظم "دعا" میں لفظ "قوم" سے کیا مراد ہے؟ 1 mark
Model answer

لفظ "قوم" سے مراد ایک ملک میں رہنے والے سبھی لوگ ہیں۔

Explanation

کتاب کے مطابق شاعر کسی ایک گروہ کی نہیں بلکہ پورے ملک کے لوگوں کی بات کر رہا ہے۔ اس لیے جواب میں "سبھی لوگ" کا ذکر ضروری ہے۔

4 "راستی" اور "صدق" کا معنی لکھیے۔ 1 mark
Model answer

راستی اور صدق دونوں کا معنی سچائی ہے۔

Explanation

لفظ و معنی میں دونوں الفاظ کا ایک ہی معنی دیا گیا ہے۔ شاعر نے انھیں عمل اور زبان دونوں کی سچائی کے لیے استعمال کیا ہے۔

5 "توانا" کا متضاد لفظ نظم میں سے تلاش کر کے لکھیے۔ 1 mark
Model answer

"توانا" کا متضاد لفظ "ناتواں" ہے۔

Explanation

توانا کا مطلب طاقت ور اور ناتواں کا مطلب کم زور ہے۔ یہ دونوں الفاظ ایک ہی مصرعے میں آئے ہیں: "توانا ہوں، مگر آفت نہ ڈھائیں ناتوانوں پر"۔

6 نظم "دعا" میں "سرکار" سے کیا مراد ہے؟ 2 marks
Model answer

نظم میں "سرکار" سے مراد خدا کا دربار ہے۔ شاعر خدا کی سرکار میں ادب سے سر جھکا کر اپنی قوم کے لیے دعا کرتا ہے۔

Explanation

یہ سوال کتاب کے "سوچیے اور بتائیے" سے لیا گیا ہے۔ یہاں سرکار کا مطلب حکومت نہیں ہے، کیوں کہ پوری نظم میں شاعر خدا سے مخاطب ہے اور پہلے مصرعے میں "دربار" کا لفظ آیا ہے۔

7 "خُلق اور اُخوّت کے تارے چمکنے" کا کیا مطلب ہے؟ 2 marks
Model answer

خُلق کا مطلب اچھی عادت اور اُخوّت کا مطلب بھائی چارا اور محبت ہے۔ تارے چمکنے سے مراد یہ ہے کہ معاشرے میں اچھی عادتیں اور بھائی چارا ہمیشہ روشن اور قائم رہے۔

Explanation

شاعر نے تاروں کی تشبیہ دی ہے۔ جیسے تارے اندھیرے میں روشنی دیتے ہیں، ویسے ہی اچھے اخلاق اور محبت سماج کو روشن رکھتے ہیں۔ دونوں الفاظ کے معنی اور تشبیہ کی وضاحت پر پورے نمبر ملیں گے۔

8 نظم میں کس چیز کے پھیلنے کی تمنا کی گئی ہے؟ 2 marks
Model answer

نظم میں علم و فن کے پھیلنے کی تمنا کی گئی ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ ہر طرف علم اور ہنر کا چرچا ہو۔

Explanation

متعلقہ مصرع ہے: "جہاں پھیلا ہوا ہو علم و فن کا ہر طرف چرچا"۔ علم اور فن دونوں کا ذکر ضروری ہے، کیوں کہ شاعر تعلیم کے ساتھ ہنر کو بھی اہم سمجھتا ہے۔

9 ہم آواز الفاظ کسے کہتے ہیں؟ نظم سے ایک مثال دیجیے۔ 2 marks
Model answer

ایسے دو لفظ جن کی آواز ایک ہو لیکن املا اور معنی الگ ہوں، ہم آواز الفاظ کہلاتے ہیں۔ جیسے "سدا" (ہمیشہ) اور "صدا" (آواز)۔

Explanation

یہ تعریف کتاب کی مشق "پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے" میں دی گئی ہے۔ ایک نمبر تعریف کا اور ایک نمبر درست مثال اور اس کے معنی کا ہے۔

10 سابقہ کسے کہتے ہیں؟ نظم میں آئے دو سابقوں والے الفاظ لکھیے۔ 2 marks
Model answer

کسی لفظ کے شروع میں اگر کوئی اضافہ کیا جائے تو اسے سابقہ کہتے ہیں۔ نظم میں "بے خوف" اور "ہم درد" ایسے الفاظ ہیں جن میں "بے" اور "ہم" سابقے ہیں۔

Explanation

کتاب بتاتی ہے کہ "خوف" سے پہلے "بے" اور "درد" سے پہلے "ہم" لگا کر نئے الفاظ بنائے گئے ہیں۔ تعریف اور دونوں مثالیں لکھنے پر پورے نمبر ملیں گے۔

11 "خُلق" اور "خَلق" میں کیا فرق ہے؟ 2 marks
Model answer

خُلق (پیش کے ساتھ) کا مطلب اچھی عادت اور خوش مزاجی ہے، اس کی جمع اخلاق ہے۔ خَلق (زبر کے ساتھ) کا مطلب دنیا کے لوگ یا مخلوق ہے، اس کی جمع خلائق ہے۔

Explanation

کتاب کی مشق میں یہی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ کچھ الفاظ کا تلفظ دو طرح سے ہوتا ہے اور دونوں کے معنی الگ ہوتے ہیں۔ صحیح اعراب کے ساتھ دونوں معنی لکھنا ضروری ہے۔

12 دور از کار رسموں سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ شاعر ان کے بارے میں کیا چاہتا ہے؟ 3 marks
Model answer

دور از کار کا مطلب بے کار اور پرانی ہے۔

  • دور از کار رسمیں وہ پرانی رسمیں ہیں جن کا اب کوئی فائدہ نہیں رہا اور جو لوگوں کی زندگی کو مشکل بناتی ہیں۔
  • شاعر دعا کرتا ہے کہ لوگ ایسی رسموں کے قائل نہ ہوں، یعنی انھیں نہ مانیں۔
  • اس کے بجائے لوگ دل سے انسانوں کی خدمت کی طرف مائل ہوں۔
Explanation

یہ سوال "سوچیے اور بتائیے" سے ہے۔ ایک نمبر لفظ کے معنی کا، ایک نمبر ایسی رسموں کی وضاحت کا اور ایک نمبر شاعر کی خواہش بیان کرنے کا ہے۔

13 عدل اور انصاف کا بول بالا ہونے کے کیا فائدے ہیں؟ نظم کی روشنی میں لکھیے۔ 3 marks
Model answer

عدل کا مطلب انصاف ہے اور بول بالا ہونے کا مطلب ہے غالب اور عام ہونا۔

  • جب انصاف کا بول بالا ہو تو طاقت ور لوگ کم زوروں پر ظلم نہیں کر سکتے۔
  • سب لوگ برابر سمجھے جاتے ہیں، چاہے ادنا ہوں یا اعلا۔
  • لوگ بے خوف ہو کر عزت سے زندگی گزارتے ہیں اور معاشرے میں خوشی اور بھائی چارا بڑھتا ہے۔
Explanation

یہ سوال "سوچیے اور بتائیے" سے ہے۔ جواب میں نظم کے انھی خیالات کو جوڑنا چاہیے: برابری، کم زوروں کی حفاظت اور بے خوف زندگی۔ تین درست فائدوں پر پورے نمبر ملیں گے۔

14 شاعر کس طرح کے ماحول میں اپنی قوم کی زندگی گزرنے کی دعا کرتا ہے؟ 3 marks
Model answer

شاعر ایک خوش گوار اور پر امن ماحول کی دعا کرتا ہے:

  • ایسی فضا جس کی ہواؤں میں رات دن مسرّت ناچتی ہو، یعنی ہر طرف خوشی ہو۔
  • جہاں چھوٹے بڑے سب خوددار اور بے خوف ہوں۔
  • جہاں اچھی عادتوں اور بھائی چارے کے تارے ہمیشہ چمکتے رہیں۔
Explanation

جواب نظم کے پہلے تین شعروں پر مبنی ہے۔ خوشی، بے خوفی اور بھائی چارا، ان تینوں نکات کا ذکر ضروری ہے۔

15 نظم "دعا" میں انسانوں کی کن اچھی صفات کی تمنا کی گئی ہے؟ کوئی تین لکھیے۔ 3 marks
Model answer

شاعر لوگوں میں کئی اچھی صفات دیکھنا چاہتا ہے:

  • ہر شخص دنیا کا ہم درد اور غم خوار ہو۔
  • لوگوں کے عمل میں راستی اور زبان پر صدق یعنی سچائی ہو۔
  • لوگ دل سے انسانوں کی خدمت کی طرف مائل ہوں اور نفرت اور تعصّب سے دور رہیں۔
Explanation

نظم میں ان کے علاوہ خودداری، بے خوفی اور ہر کام کو پورا کرنے کی عادت کا بھی ذکر ہے۔ کوئی بھی تین صفات نظم کے حوالے سے لکھنے پر پورے نمبر ملیں گے۔

16 "توانا ہوں، مگر آفت نہ ڈھائیں ناتوانوں پر" کی وضاحت کیجیے۔ 3 marks
Model answer

توانا کا مطلب طاقت ور اور ناتواں کا مطلب کم زور ہے۔

  • شاعر چاہتا ہے کہ اس کی قوم کے لوگ طاقت ور ہوں۔
  • لیکن وہ اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں اور کم زوروں پر ظلم یا مصیبت نہ ڈھائیں۔
  • یعنی طاقت کو کم زوروں کی حفاظت اور مدد کے لیے استعمال کیا جائے۔
Explanation

اس مصرعے میں طاقت کے ساتھ رحم دلی کی تعلیم دی گئی ہے۔ معنی، شاعر کی خواہش اور اس کا پیغام تینوں حصے لکھنے ضروری ہیں۔

17 نظم "دعا" میں نفرت اور تعصّب کے بارے میں شاعر کا کیا خیال ہے؟ 3 marks
Model answer

تعصّب کا مطلب بے جا طرف داری ہے۔

  • شاعر دعا کرتا ہے کہ لوگ نفرت اور تعصّب کے بندے نہ ہوں، یعنی ان کے قابو میں نہ آئیں۔
  • نفرت اور تعصّب لوگوں کو بانٹتے ہیں اور ناانصافی پیدا کرتے ہیں۔
  • ان کے بجائے شاعر بھائی چارا، ہمدردی اور برابری چاہتا ہے۔
Explanation

جواب کا تعلق مصرعے "جہاں بندے نہ ہوں افراد نفرت اور تعصّب کے" سے ہے۔ لفظ کا معنی اور شاعر کے مثبت متبادل خیالات کا ذکر نمبر دلاتا ہے۔

18 نظم "دعا" کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں لکھیے۔ 4 marks
Model answer

نظم "دعا" محمد شفیع الدین نیّر کی ایک دعائیہ نظم ہے جو ٹیگور کی گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہے۔

  • شاعر خدا کے دربار میں ادب سے سر جھکا کر اپنی قوم یعنی ملک کے سب لوگوں کے لیے دعا کرتا ہے۔
  • وہ ایسے ماحول کی تمنا کرتا ہے جہاں خوشی ہو، سب خوددار اور بے خوف ہوں اور بھائی چارا قائم رہے۔
  • وہ چاہتا ہے کہ لوگ ہم درد ہوں، علم و فن پھیلے، نفرت، تعصّب اور بے کار رسمیں ختم ہوں اور سچائی عام ہو۔
  • آخر میں وہ برابری، کم زوروں کی حفاظت اور عدل و انصاف کے بول بالا ہونے کی دعا کرتا ہے۔
Explanation

مرکزی خیال میں نظم کی قسم، شاعر کی دعا اور اس کے اہم نکات (خوشی، بھائی چارا، علم، سچائی، برابری اور انصاف) آنے چاہییں۔ صرف ایک دو نکات لکھنے پر کم نمبر ملیں گے۔

19 شاعر نظم "دعا" میں کیسے سماج کا خواب دیکھتا ہے؟ تفصیل سے لکھیے۔ 4 marks
Model answer

شاعر ایک مثالی سماج کا خواب دیکھتا ہے۔

  • ایسا سماج جہاں ہر طرف خوشی ہو اور چھوٹے بڑے سب خوددار اور بے خوف ہوں۔
  • جہاں ہر شخص دنیا کا غم خوار ہو اور علم و فن کا ہر طرف چرچا ہو۔
  • جہاں لوگ ہر کام پورا کرنے کا خیال رکھیں، نفرت، تعصّب اور پرانی بے کار رسموں سے دور رہیں اور انسانوں کی خدمت کریں۔
  • جہاں سچائی عام ہو، طاقت ور کم زوروں پر ظلم نہ کریں، سب برابر ہوں اور انصاف کا بول بالا ہو۔
Explanation

جواب میں نظم کے تمام اہم خیالات ترتیب سے آنے چاہییں۔ ہر نکتے کو نظم کے کسی مصرعے سے جوڑنا اچھے جواب کی نشانی ہے۔

20 نظم "دعا" سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ اپنی روزمرہ زندگی سے مثالیں دے کر لکھیے۔ 4 marks
Model answer

نظم ہمیں مل جل کر، پیار محبت سے اور انصاف کے ساتھ رہنے کا سبق دیتی ہے۔

  • ہمیں دوسروں کا ہم درد ہونا چاہیے، جیسے کسی بیمار ہم جماعت کی مدد کرنا۔
  • ہمیں تعصّب سے بچنا چاہیے اور سب کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی گروہ کے ہوں۔
  • ہمیں اپنی بات اور اپنے کام دونوں میں سچا ہونا چاہیے۔
  • اگر ہم طاقت ور ہیں تو کم زوروں کی مدد کریں، ان کا مذاق نہ اڑائیں۔
Explanation

اس سوال میں طالب علم کو نظم کے پیغام کو اپنی زندگی سے جوڑنا ہے۔ نمبر نظم کے درست سبق اور مناسب مثالوں پر ملیں گے۔

21 نظم "دعا" کی کتاب میں دی گئی عملی سرگرمیوں کو بیان کیجیے اور بتائیے کہ ان سے کیا فائدہ ہوگا۔ 4 marks
Model answer

کتاب میں نظم کے بعد دو عملی کام دیے گئے ہیں۔

  • نظم کو یاد کر کے دعائیہ جلسے میں پیش کرنا۔
  • اسکول کی لائبریری یا انٹرنیٹ کی مدد سے ایسی نظموں کا انتخاب کرنا جن میں اللہ کی تعریف اور عظمت بیان کی گئی ہو۔
  • پہلے کام سے صحیح تلفظ، اعتماد اور سب کے سامنے بولنے کی مشق ہوتی ہے۔
  • دوسرے کام سے طلبہ دوسری دعائیہ اور حمدیہ نظموں سے واقف ہوتے ہیں اور لائبریری اور انٹرنیٹ کا استعمال سیکھتے ہیں۔
Explanation

دونوں سرگرمیاں کتاب کے "عملی کام" سے ہیں۔ فائدے طالب علم کی اپنی سمجھ پر مبنی ہو سکتے ہیں، لیکن سرگرمیوں کا درست ذکر ضروری ہے۔

22 نظم "دعا" میں برابری کے تصور کو واضح کیجیے۔ 4 marks
Model answer

برابری اس نظم کا ایک اہم خیال ہے۔

  • شاعر کہتا ہے: "برابر ہو جہاں ہر ایک، ادنا ہو کہ اعلا ہو"، یعنی چھوٹے بڑے سب برابر سمجھے جائیں۔
  • وہ چاہتا ہے کہ چھوٹے بڑے سب خوددار اور بے خوف ہوں۔
  • طاقت ور لوگ کم زوروں پر ظلم نہ کریں، تاکہ کوئی کسی سے ڈر کر نہ رہے۔
  • انصاف اور عدل کا بول بالا ہو، جو برابری کی بنیاد ہے۔
Explanation

اچھے جواب میں نظم کے کم سے کم تین مصرعوں کو برابری کے خیال سے جوڑا جائے گا۔

23 درج ذیل اشعار پڑھ کر سوالوں کے جواب دیجیے: "جہاں خوددار اور بے خوف ہوں چھوٹے بڑے سارے، سدا خُلق و اُخوّت کے چمکتے ہوں جہاں تارے" (i) "خوددار" کا معنی لکھیے۔ (ii) "سدا" کا مطلب کیا ہے اور اس کا ہم آواز لفظ کون سا ہے؟ (iii) "اُخوّت" کا معنی لکھیے۔ (iv) اس شعر کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیے۔ 4 marks
Model answer

یہ شعر نظم "دعا" سے لیا گیا ہے۔

  • (i) خوددار کا معنی غیرت مند ہے۔
  • (ii) سدا کا مطلب ہمیشہ ہے اور اس کا ہم آواز لفظ صدا ہے جس کا مطلب آواز ہے۔
  • (iii) اُخوّت کا معنی بھائی چارا اور محبت ہے۔
  • (iv) شاعر چاہتا ہے کہ ملک کے چھوٹے بڑے سب لوگ عزت دار اور بے خوف ہوں اور ان کے درمیان اچھی عادتیں اور بھائی چارا ہمیشہ تاروں کی طرح چمکتا رہے۔
Explanation

ہر حصے کا ایک نمبر ہے۔ مفہوم میں "تارے" کی تشبیہ کی وضاحت جواب کو مکمل بناتی ہے۔

24 درج ذیل اشعار پڑھ کر سوالوں کے جواب دیجیے: "جہاں کے لوگ دور از کار رسموں کے نہ قائل ہوں، جہاں پر لوگ دل سے خدمتِ انساں پہ مائل ہوں" (i) "دور از کار" کا معنی لکھیے۔ (ii) "مائل" کا معنی لکھیے۔ (iii) شاعر لوگوں کو کن چیزوں سے دور اور کس کی طرف مائل دیکھنا چاہتا ہے؟ (iv) "خدمتِ انساں" کی ایک مثال دیجیے۔ 4 marks
Model answer

یہ شعر نظم "دعا" کا ہے جس میں شاعر سماج کی بہتری کی دعا کرتا ہے۔

  • (i) دور از کار کا معنی بے کار اور پرانی ہے۔
  • (ii) مائل کا معنی متوجہ ہے۔
  • (iii) شاعر لوگوں کو بے کار اور پرانی رسموں سے دور اور انسانوں کی خدمت کی طرف مائل دیکھنا چاہتا ہے۔
  • (iv) کسی بزرگ یا معذور شخص کی سڑک پار کرنے میں مدد کرنا خدمتِ انساں کی ایک مثال ہے۔
Explanation

پہلے تین حصے کتاب کے متن اور لفظ و معنی پر مبنی ہیں۔ چوتھے حصے میں کوئی بھی مناسب مثال قبول کی جائے گی۔

25 درج ذیل اشعار پڑھ کر سوالوں کے جواب دیجیے: "برابر ہو جہاں ہر ایک، ادنا ہو کہ اعلا ہو، جہاں انصاف کا اور عدل ہی کا بول بالا ہو" (i) "ادنا" اور "اعلا" سے کیا مراد ہے؟ (ii) "عدل" کا معنی لکھیے۔ (iii) "بول بالا ہونا" کا کیا مطلب ہے؟ (iv) اس شعر میں شاعر کی کیا تمنا ہے؟ 4 marks
Model answer

یہ نظم "دعا" کا آخری شعر ہے۔

  • (i) ادنا سے مراد چھوٹا یا نچلے درجے کا شخص اور اعلا سے مراد بڑا یا اونچے درجے کا شخص ہے۔
  • (ii) عدل کا معنی انصاف ہے۔
  • (iii) بول بالا ہونے کا مطلب ہے کسی چیز کا غالب اور عام ہونا۔
  • (iv) شاعر کی تمنا ہے کہ ملک میں سب لوگ برابر سمجھے جائیں اور ہر طرف انصاف کا راج ہو۔
Explanation

ہر حصے کا ایک نمبر ہے۔ آخری حصے میں برابری اور انصاف دونوں خیالات کا ذکر ضروری ہے۔

26 درج ذیل اشعار پڑھ کر سوالوں کے جواب دیجیے: "خدایا! ہم ترے دربار میں اک عرض لائے ہیں، یہ اپنے سَر، تری سرکار میں ہم نے جھکائے ہیں" (i) یہ اشعار کس نظم سے لیے گئے ہیں اور شاعر کون ہیں؟ (ii) شاعر کس سے مخاطب ہے؟ (iii) "عرض" اور "سرکار" سے یہاں کیا مراد ہے؟ (iv) سر جھکانے سے شاعر کی کس کیفیت کا اظہار ہوتا ہے؟ 4 marks
Model answer

یہ نظم "دعا" کے ابتدائی اشعار ہیں۔

  • (i) یہ اشعار نظم "دعا" سے لیے گئے ہیں جس کے شاعر محمد شفیع الدین نیّر ہیں۔
  • (ii) شاعر خدا سے مخاطب ہے۔
  • (iii) عرض سے مراد درخواست یا دعا ہے اور سرکار سے مراد خدا کا دربار ہے۔
  • (iv) سر جھکانے سے شاعر کی عاجزی، ادب اور خدا پر بھروسے کا اظہار ہوتا ہے۔
Explanation

ہر حصے کا ایک نمبر ہے۔ حصہ (iii) میں دونوں الفاظ کی وضاحت ضروری ہے۔

27 ایک اسکول میں کچھ طلبہ ایک نئے ساتھی سے صرف اس لیے بات نہیں کرتے کہ وہ دوسرے علاقے سے آیا ہے۔ نظم "دعا" کی روشنی میں جواب دیجیے: (i) یہ رویہ کس برائی کی مثال ہے؟ (ii) نظم کا کون سا مصرع اس کے خلاف ہے؟ (iii) شاعر اس کے بجائے کس جذبے کی تمنا کرتا ہے؟ (iv) آپ اس صورت حال میں کیا کریں گے؟ 4 marks
Model answer

یہ صورت حال نظم کے پیغام کے خلاف ہے۔

  • (i) یہ تعصّب کی مثال ہے، یعنی بے جا طرف داری۔
  • (ii) مصرع "جہاں بندے نہ ہوں افراد نفرت اور تعصّب کے" اس کے خلاف ہے۔
  • (iii) شاعر خُلق و اُخوّت یعنی اچھی عادت اور بھائی چارے کی تمنا کرتا ہے۔
  • (iv) میں نئے ساتھی سے دوستی کروں گا اور دوسروں کو سمجھاؤں گا کہ سب برابر ہیں۔
Explanation

پہلے تین حصے نظم پر مبنی ہیں۔ چوتھے حصے میں ایسا کوئی بھی جواب قبول ہے جو بھائی چارے اور برابری کو ظاہر کرے۔

Other subjects in Class 6