Notes, Tests & AI Tutor for Class 5–12 | CBSE · JEE · NEET | 24x7 Access
Home Schools
Log in Get Started

1. دعا — Notes

Urdu 1. دعا English Medium Free sample chapter
1. دعا
خیال، جماعت ششم — محمد شفیع الدین نیّر کی دعائیہ نظم
اس سبق میں آپ سیکھیں گے
  • نظم کا متن، شاعر اور پس منظر
  • ہر شعر کا مطلب اور مرکزی خیال
  • مشکل الفاظ کے معنی
  • ہم آواز الفاظ، تلفظ سے معنی کا فرق اور سابقہ

1تعارف

نظم دعا محمد شفیع الدین نیّر کی لکھی ہوئی ہے۔ یہ دعائیہ نظم ہے، یعنی اس میں شاعر خدا سے مخاطب ہو کر دعا مانگتا ہے۔ کتاب کے مطابق یہ نظم ٹیگور کی مشہور کتاب گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔

اس نظم میں شاعر نے مل جل کر اور پیار محبت سے رہنے کی دعا مانگی ہے۔ نظم میں لفظ قوم آیا ہے جس سے مراد ایک ملک میں رہنے والے سبھی لوگ ہیں۔ یعنی شاعر کسی ایک گروہ کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لوگوں کے لیے دعا کر رہا ہے۔

یاد رکھیے
نظم کے شاعر محمد شفیع الدین نیّر ہیں، ٹیگور نہیں۔ ٹیگور کا ذکر صرف اس لیے ہے کہ نظم ان کی کتاب گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہے۔

2نظم کا متن

خدایا! ہم ترے دربار میں اک عرض لائے ہیں
یہ اپنے سَر، تری سرکار میں ہم نے جھکائے ہیں
گزارے زندگی اب قوم اپنی اُن فضاؤں میں
مسرّت ناچتی ہو رات دن جن کی ہواؤں میں
جہاں خوددار اور بے خوف ہوں چھوٹے بڑے سارے
سدا خُلق و اُخوّت کے چمکتے ہوں جہاں تارے
جہاں ہر شخص ہو ہم درد اور غم خوار دنیا کا
جہاں پھیلا ہوا ہو علم و فن کا ہر طرف چرچا
جہاں ہر کام میں تکمیل ہو پیشِ نظر سب کے
جہاں بندے نہ ہوں افراد نفرت اور تعصّب کے
جہاں کے لوگ دور از کار رسموں کے نہ قائل ہوں
جہاں پر لوگ دل سے خدمتِ انساں پہ مائل ہوں
عمل میں راستی ہو، صِدق ہو اُن کی زبانوں پر
توانا ہوں، مگر آفت نہ ڈھائیں ناتوانوں پر
برابر ہو جہاں ہر ایک، ادنا ہو کہ اعلا ہو
جہاں انصاف کا اور عدل ہی کا بول بالا ہو
— محمد شفیع الدین نیّر

نظم میں کل سولہ مصرعے یعنی آٹھ شعر ہیں۔ بہت سے مصرعے لفظ جہاں سے شروع ہوتے ہیں۔ اس طرح شاعر ایک ایک کر کے اس مثالی جگہ کی خوبیاں گنواتا ہے جہاں وہ اپنی قوم کو دیکھنا چاہتا ہے۔

3اشعار کی تشریح

شعرمطلب
شعر 1شاعر خدا کے دربار میں ادب سے سر جھکا کر ایک عرض یعنی درخواست پیش کرتا ہے۔ یہاں سرکار سے مراد خدا کا دربار ہے۔
شعر 2دعا ہے کہ ملک کے سب لوگ ایسے ماحول میں رہیں جہاں رات دن خوشی ہی خوشی ہو، گویا ہواؤں میں مسرّت ناچ رہی ہو۔
شعر 3چھوٹے بڑے سب غیرت مند اور بے خوف ہوں اور اچھی عادتوں اور بھائی چارے کے تارے ہمیشہ چمکتے رہیں۔
شعر 4ہر شخص دنیا کا ہم درد اور دکھ درد کا شریک ہو اور ہر طرف علم اور ہنر کا چرچا ہو۔
شعر 5سب کی نظر ہر کام کو پورا کرنے پر ہو اور لوگ نفرت اور بے جا طرف داری کے غلام نہ ہوں۔
شعر 6لوگ بے کار اور پرانی رسموں کو نہ مانیں اور دل سے انسانوں کی خدمت کی طرف متوجہ ہوں۔
شعر 7لوگوں کے عمل اور زبان دونوں میں سچائی ہو۔ وہ طاقت ور ہوں مگر کم زوروں پر ظلم نہ کریں۔
شعر 8چھوٹا ہو یا بڑا، سب برابر ہوں اور ہر طرف انصاف اور عدل کا بول بالا ہو۔
امتحانی نکتہ
تشریح لکھتے وقت پہلے مشکل الفاظ کے معنی لکھیے، پھر شعر کا مطلب سادہ زبان میں بیان کیجیے۔ جیسے "تارے" یہاں ایک تشبیہ ہیں: اچھی عادتیں اور بھائی چارا تاروں کی طرح روشنی پھیلاتے ہیں۔

4مرکزی خیال

شاعر خدا سے دعا کرتا ہے کہ اس کے ملک کے لوگ ایک مثالی ماحول میں زندگی گزاریں۔ ایسا ماحول جس میں ہر طرف خوشی ہو، سب لوگ غیرت مند اور بے خوف ہوں، اچھی عادتیں اور بھائی چارا ہمیشہ قائم رہے، ہر شخص دوسروں کا ہم درد ہو اور علم و فن کا چرچا ہو۔

شاعر چاہتا ہے کہ لوگ ہر کام پورا کریں، نفرت، تعصّب اور بے کار پرانی رسموں سے دور رہیں، دل سے انسانوں کی خدمت کریں، کام اور زبان دونوں میں سچے ہوں، طاقت ور کم زوروں پر ظلم نہ کریں، سب برابر ہوں اور انصاف کا بول بالا ہو۔

دعاقوم کے لیےخوشی اور بے خوفیبھائی چاراعلم و فن کا چرچاسچائی اور خدمتبرابریعدل و انصاف
نظم میں جن خوبیوں کی دعا مانگی گئی ہے

5سوچیے اور بتائیے: اہم سوالات

  • سرکار سے مراد: خدا کا دربار، جہاں شاعر سر جھکا کر دعا کرتا ہے۔
  • خُلق اور اُخوّت کے تارے چمکنا: اچھی عادتوں اور بھائی چارے کا ہمیشہ روشن اور قائم رہنا۔
  • کس چیز کے پھیلنے کی تمنا: علم و فن کا ہر طرف چرچا۔
  • دور از کار رسمیں: بے کار اور پرانی رسمیں جنھیں شاعر نہیں ماننا چاہتا۔
  • عدل اور انصاف کے بول بالا ہونے کا فائدہ: کم زوروں کی حفاظت، سب کی برابری اور بے خوف، پر امن زندگی۔
عام غلطی
"سرکار" کا مطلب حکومت لکھ دینا۔ اس نظم میں شاعر خدا سے مخاطب ہے، اس لیے سرکار کا مطلب خدا کا دربار ہے۔

6زبان و قواعد

ہم آواز الفاظ

ایسے دو لفظ جن کی آواز ایک ہو لیکن املا اور معنی الگ ہوں، ہم آواز الفاظ کہلاتے ہیں۔ نظم میں سدا آیا ہے جس کا مطلب ہمیشہ ہے، جب کہ صدا کا مطلب آواز ہے۔

تلفظ سے معنی کا فرق

بعض الفاظ کا تلفظ دو طرح سے ہوتا ہے اور دونوں کے معنی الگ ہوتے ہیں۔ خُلق کا مطلب اچھی عادت اور خوش مزاجی ہے اور اس کی جمع اخلاق ہے۔ خَلق کا مطلب دنیا کے لوگ یا مخلوق ہے اور اس کی جمع خلائق ہے۔

سدا = ہمیشہصدا = آوازہم آواز الفاظ: آواز ایک، املا اور معنی الگخُلق = اچھی عادتجمع: اخلاقخَلق = دنیا کے لوگجمع: خلائقتلفظ بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے
ہم آواز الفاظ اور تلفظ کا فرق

سابقہ

کسی لفظ کے شروع میں اگر کوئی اضافہ کیا جائے تو اسے سابقہ کہتے ہیں۔ نظم میں خوف سے پہلے بے لگا کر بے خوف اور درد سے پہلے ہم لگا کر ہم درد بنایا گیا ہے۔

بے+خوفبے خوفہم+دردہم دردلفظ کے شروع میں اضافہ = سابقہ
سابقے سے نئے الفاظ بنانا

متضاد الفاظ

نظم میں متضاد الفاظ کے جوڑے بھی ہیں: توانا (طاقت ور) اور ناتواں (کم زور)، ادنا اور اعلا، چھوٹے اور بڑے۔

اہم الفاظ اور معنی
  • خوددار: غیرت مند
  • خُلق: اچھی عادت
  • اُخوّت: بھائی چارا، محبت
  • غم خوار: ہم درد، دکھ درد کا شریک
  • تکمیل: پورا کرنا
  • پیشِ نظر: نظر کے سامنے، موجود، روبرو
  • تعصّب: بے جا طرف داری
  • دور از کار: بے کار، پرانی
  • مائل: متوجہ
  • راستی: سچائی
  • صدق: سچائی
  • توانا: طاقت ور
  • ناتواں: کم زور
  • عدل: انصاف

7عملی کام

  • اس نظم کو یاد کیجیے اور دعائیہ جلسے میں پیش کیجیے۔
  • اپنے اسکول کی لائبریری یا انٹرنیٹ کی مدد سے ایسی نظموں کا انتخاب کیجیے جن میں اللہ کی تعریف اور عظمت بیان کی گئی ہو۔
امتحانی نکتہ
خالی جگہ پُر کرنے والے سوالوں کے لیے نظم کے مصرعے صحیح الفاظ کے ساتھ یاد کیجیے، جیسے "جہاں ہر شخص ہو ہم درد اور غم خوار دنیا کا"۔

8فوری جانچ

سوال 1: نظم دعا کس کتاب کے ایک گیت سے متاثر ہے؟
جواب دیکھیے
ٹیگور کی گیتانجلی۔
سوال 2: لفظ قوم سے کیا مراد ہے؟
جواب دیکھیے
ایک ملک میں رہنے والے سبھی لوگ۔
سوال 3: سدا اور صدا کے معنی لکھیے۔
جواب دیکھیے
سدا یعنی ہمیشہ، صدا یعنی آواز۔
سوال 4: خَلق کی جمع کیا ہے؟
جواب دیکھیے
خلائق۔
سوال 5: بے خوف میں سابقہ کون سا ہے؟
جواب دیکھیے
بے۔
سوال 6: شاعر طاقت ور لوگوں سے کیا چاہتا ہے؟
جواب دیکھیے
کہ وہ کم زوروں پر آفت نہ ڈھائیں۔
خلاصہ
  • نظم دعا محمد شفیع الدین نیّر کی دعائیہ نظم ہے جو ٹیگور کی گیتانجلی سے متاثر ہے۔
  • شاعر خدا سے اپنی قوم یعنی ملک کے سب لوگوں کے لیے دعا کرتا ہے۔
  • وہ خوشی، بے خوفی، خودداری اور بھائی چارے والے ماحول کی تمنا کرتا ہے۔
  • وہ ہم دردی، علم و فن، سچائی اور انسانوں کی خدمت کو عام دیکھنا چاہتا ہے۔
  • وہ نفرت، تعصّب اور بے کار رسموں کو ختم کرنے کی دعا کرتا ہے۔
  • نظم کا آخری پیغام برابری، کم زوروں کی حفاظت اور عدل و انصاف ہے۔
  • قواعد: ہم آواز الفاظ (سدا، صدا)، تلفظ کا فرق (خُلق، خَلق) اور سابقہ (بے، ہم)۔
More notes for Class 6
Other subjects in Class 6